زینب کا دل ہلا پڑا، وہ چیخ کر رونے لگی اور عثمان کی یادوں میں اُسکی جان کے پیچھے بھاگ پڑی۔ اُسکے اندر یہ جان لینے والی خوشی کی تصویر اُتھڑ گئی۔ اب وہ جانتی تھی کہ عثمان کا عشق اب بھی اُسکے ساتھ تھا۔
زینب کا دل عثمان کی خاکی قبر کے سامنے سکڑ گیا۔ وہ پھولوں کا حصار لے کر آئی اور اُس نے اُن پر رکھے ہر پھول کو عثمان کی یادوں سے بھر دیا۔
منزلوں کی کوئی شورشاہ نہیں تھی، صرف زینب کی آنسوئوں کا رونہ سنائی دیتا تھا۔ وہ اپنے ایک شخص کو کھو چکی تھی، اپنی محبت کی نشانی۔
زینب کی دل کوچہ میں ایک کتاب ملی، جس میں عثمان کی خواطر نوشتے تھے۔ وہ ہر شام اُن کو پڑھتی اور اُن کی باتوں میں خود کو خوابوں میں ڈھونک دیتی۔
اِک رات، زینب نے اپنی دل کی باتوں کو اُس کتاب کی صفحات پر لکھ دیا۔ وہ اُن لفظوں کو تقسیم کرتی گئی، لہٰذا کہ وہ عثمان کے پاس پہنچ سکیں۔
لیکن دن کے وقت، اُس کے حضور نہ پہنچ سکی۔ وہ دل کوچہ کے باہر چھوڑ کر بھاگ پڑی۔ اُسکا دل ٹوٹ گیا، کیونکہ وہ دل کوچہ کو بھول
